ہے ماتر یبھومی !

ہے ماتریبھومی ! تیرے چرنوں میں شر نواؤں ۔
میں بھکتی بھینٹ اپنی، تیری شرن میں لاؤں ۔

ماتھے پے تو ہو چندن، چھاتی پے تو ہو مالا ؛
جہوا پے گیت تو ہو میرا، تیرا ہی نام گاؤں ۔

جسسے سپوت اپجیں، شری رام-کرشن جیسے؛
اس دھول کو میں تیری نج شیش پے چڑھاؤں ۔

مائی سمدر جسکی پد رج کو نتی دھوکر؛
کرتا پرنام تجھکو، میں وے چرن دباؤں ۔

سیوا میں تیری ماتا ! میں بھیدبھاو تجکر؛
وہ پنی نام تیرا، پرتیدن سنوں سناؤں ۔

تیرے ہی کام آؤں، تیرا ہی منتر گاؤں۔
من اور دیہہ تجھ پر بلیدان میں جاؤں ۔

(نج=اپنے، پد رج=چرن-دھوڑ)

 

رام پرساد بسمل 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا