بے بسی

بے بسی

بے رنگ دن

بے موج شامِ ذات ہے
میری طلب کے سب نشاں
دل بن کے میرے گرد بکھرے ہیں مگر
دھڑکن سے ہر اک سانس تک
آزار بڑھتا جا رہا ہے
(حبس گھٹتا ہی نہیں)
سب حادثے
جو دل کی تہہ میں ہوتے ہیں
ان کو بھلائیں کس طرح؟
میری خموشی
دھڑکنوں میں
گونجتی رہتی ہے لیکن
آرزو کے نرد بانوں پر قدم
چلتے ہوئے رکتے نہیں!!

ناہید ورک

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان