بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا

بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا

وہ پیرہن جسے نذر بہار بھی نہ کیا

کوئی جواب ہے اس طرز دلربائی کا

سکوں بھی لوٹ لیا بے قرار بھی نہ کیا

دل خراب سر کوئے یار لے آیا

خیال گردش لیل و نہار بھی نہ کیا

گزر گیا یونہی چپ چاپ کاروان بہار

نوید گل بھی نہ دی دل فگار بھی نہ کیا

خیال خاطر احباب اور کیا کرتے

جگر پہ زخم بھی کھائے شمار بھی نہ کیا

قابل اجمیری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان