بقا

یہ کارواں نمود کا یہ سلسلہ وجود کا
یہ آسماں یہ کہکشاں
جو کچھ بھی نزد و دور ہے
یہ ایک ہی وجود کی نمود ہے
نہ ابتدا نہ انتہا
فقط بقا
تیری کبیدہ خاطری ہے بے محل
یہ بے کسی یہ عاجزی ہے بے محل
یہ زندگی ہے جاوداں
مثال آب جو رواں
تو قید و بند ذات ہے
کہ ذات بے ثبات ہے
ہمارے درد کی دوا
خودی کی کائینات ہے
خودی کی کائینات میں
نجات ہے ثبات ہے

منزہ انور گوئیُندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے