بہاؤں گا نہ میں آنسو نہ مسکراؤں گا

بہاؤں گا نہ میں آنسو نہ مسکراؤں گا

خموش رہ کے سلیقے سے غم مناؤں گا

کروں گا کام وہی جو دیا گیا ہے مجھے

میں خواب دیکھوں گا اور خواب ہی دکھاؤں گا

ادھوری بات بھی پوری سمجھنی ہوگی تمہیں

میں کچھ بتاؤں گا اور کچھ نہیں بتاؤں گا

میں آج تک نہیں مانا ہوں تیری دنیا کو

تو مان جائے تو میں اس کو مان جاؤں گا

اسی سوال نے سونے نہیں دیا شب بھر

تو مجھ سے پوچھے گا کیا اور میں کیا بتاؤں گا

تری کہانی میں رکھوں گا خود کو کچھ ایسے

میں داستاں میں نئی داستاں بناؤں گا

یہ مصلحت ہے مری بزدلی نہیں تیمورؔ

جہاں ضروری ہوا حوصلہ دکھاؤں گا

تیمور حسن تیمور

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان