باغ سے جھولے اتر گئے

باغ سے جھولے اتر گئے

سندر چہرے اتر گئے

لٹک گئے دیوار سے ہم

سیڑھی والے اتر گئے

گھر میں کس کا پاؤں پڑا

چھت کے جالے اتر گئے

بھینٹ چڑھے تم عجلت کی

پیڑ سے کچے اتر گئے

وصل کے ایک ہی جھونکے میں

کان سے بالے اتر گئے

بھاگوں والی بستی تھی

جہاں پرندے اتر گئے

اک دن ایسا ہوش آیا

سارے نشے اتر گئے

اظہر فراغ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا