بابل رے توری بنتی کروں ہوں

بابل رے توری بنتی کروں ہوں، کان لگا کر سُن
دل کی بات بہت مدّھم ہے، دھیان لگا کر سُن

آنکھیں جس کی چاہ کریں بس وہ مجھے چُھونے پائے
میں جس ھاتھ کو جانوں ناھیں کبھی نہ مجھ تک آئے

موہ پریت کا بھوجن مورا اور کوئی نہ کھائے
تھالی اُس کے آگے رکھوں جو مورے من بھائے

بابل تجھ سے پھول نہ مانگوں پھول کی باس اُڑ جائے
پیارے پی کا پیار دلا دے کبھی نہ جو کملائے

بابل تجھ سے دھیج نہ مانگوں، مانگوں ایک نیائے
من بھاون مورا گھونگھٹ کھولے، من بھاون لے جائے

شہزاد نیّرؔ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی