بات نکلی تو پھر دور تک جاٸےگی

بات نکلی تو پھر دور تک جاٸےگی
گھوم پھرکےبھی مستور تک جاٸےگی

اک خلش ہے مجھے وہ مرا نہ ہوا
زخم بن کے یہ نا سور تک جاٸے گی

زندگی منتظر ہے بس امرِ خدا
یہ گزرکر بھی بس صُور تک جاٸے گی

تزکیہ نفس کا حکم میرے لیے
واعظوں کی نگہ حوُر تک جاٸےگی

اک جھلک دیکھنےکی ہے خواہش ابھی
آرزو پھر یہی طوُر تک جاٸے گی

قُدرتِ کاملہ کا ہے مظہر یہی
روشنی بس اُسی نُور تک جاٸے گی

ہر مصیبت ہے عاجز مُیَسَّر مجھے
جو بھی آٸی تو مجبور تک جاٸے گی

ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا