بات کے بیچ بول اٹھتے ہو

بات کے بیچ بول اٹھتے ہو
تم اشارہ نہیں سمجھتے ہو

کہیں دیوار تو نہیں ہوں میں
کیوں مرے ساتھ لگ کے بیٹھتے ہو

چاہتا ہوں ، مجھے پتہ تو چلے
کچھ تو ہے یار ، کچھ تو چاہتے ہو

کاش تم ہوتے دل کے ہمسائے
کون ہو ، اور کہاں پہ رہتے ہو

روز میں آئینے سے پوچھتا ہوں
دیکھے دیکھے ہوئے سے لگتے ہو

کون سا کونا دوں تمہیں دل کا
بوجھ دل کا کہیں تو پھینکتے ہو

سن کے اچھا لگا مجھے ، محبوب
میرے بارے میں اتنا سوچتے ہو

محبوب کاشمیری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی