آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی

آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
تھک کے گر جائے گی جب رات سفر کرتی ہوئی

اب یہی سوچ کے پھرتا ہوں فسردہ تنہا
کتنی خوش تھی وہ مرے ساتھ سفر کرتی ہوئی

میں جو ٹھہرا تو مری کھوج میں میرے گھر تک
آ گئی گردش ِ حالات سفر کرتی ہوئی

یہی ایثار ہے اب میں اسے آگے بھیجوں
مجھ تک آئی ہے جو خیرات سفر کرتی ہوئی

اشک اس جوش سے نکلے ہیں کہ لگتا ہے رفیق
دشت، تک جائے گی برسات سفر کرتی ہوئی

رفیق لودھی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی