آوازوں کے شور سے

آوازوں کے شور سے بچنا پڑتا ہے
سیدھا پیر رکھوں تو الٹا پڑتا ہے

اپنے آپ کو واپس لا سکتی ہوں میں
لیکن تیرا نام بلانا پڑتا ہے

چپہ چپہ جال بچھاےء دشمن نے
سنبھل سنبھل کر قدم اٹھانا پڑتا ہے

ایک کنارہ میرا اور اک جہلم کا
ہم دونوں کے بیچ میں صحرا پڑتا ہے

اس پر پیار کا جادو کرتے ڈرتی ہوں
میرا پھونکا منتر الٹا پڑتا ہے

عشق نہیں بکتا سستے بازاروں میں
یہ سودا تو ہر جا مہنگا پڑتا ہے

ایک کنارہ میرا اور اک جہلم کا
ہم دونوں کے بیچ میں صحرا پڑتا ہے

یعنی اس تک جانے کو مرنا ہوگا
یہ رستہ تو اور بھی لمبا پڑتا ہے

فرح گوندل

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا