اور روشن رہِ سفرکردو

اور روشن رہِ سفرکردو
شوقِ منزل کو معتبر کر دو

راستےمختصرنہیں ہوں گے
اپنی رفتار تیز تر کر دو

جس طرف روشنی نظر آئے
اپنے قدموں کا رُخ اُدھر کر دو

جب بہکنے لگیں تمھارے قدم
عزمِ راسخ کو راہبر کر دو

کر کے روشن لہوسے سارے چراغ
شبِ تاریک کو سحر کر دو

سیّد اقبال عظیم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا