اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں

اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں

پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں

ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں

آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں

حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں

کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی