اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
خوش ہی اتنا ہوں کہ آنکھوں سے ہنسی نکلی ہے

تین حصوں میں بٹا رہتا ہے اب گھر میرا
تیرے آ جانے سے کب تیری کمی نکلی ہے

عین ممکن ہے وہیں میرے شب و روز بھی ہوں
شہر نا وقت کے ملبے سے گھڑی نکلی ہے

کون آسیب ہے اس خواب سرا کا باسی
روشنی آنکھ سے چلاتی ہوئی نکلی ہے

خیر میں تو کہیں موجود ہی کب ہوں شارقؔ
رہی ویرانی سو وہ گھر سے ابھی نکلی ہے

سعید شارق

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی