اشعار

ساحر لدھیانوی

اشعار

نفس کے لوچ میں رم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے
حیات، ساغر سم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

تری نگاہ مرے غم کی پاسدار سہی
مری نگاہ میں غم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

مری ندیم! محبت کی رفعتوں سے نہ گر
بلند بامِ حرم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

یہ اجتناب ہے عکسِ شعورِ محبوبی
یہ احتیاطِ ستم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

ادھر بھی ایک اچٹتی نظر کہ دنیا میں
فروغِ محفلِ جم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

نئے جہان بسائے ہیں فکرِ آدم نے
اب اس زمیں پہ ارم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے

مرے شعور کو آوارہ کر دیا جس نے
وہ مرگِ شادی و غم ہی نہیں، کچھ اور بھی ہے

ساحر لدھیانوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے