عشاق کے تئیں ہے عجز و نیاز واجب

عشاق کے تئیں ہے عجز و نیاز واجب
ہے فرض عین رونا دل کا گداز واجب

یوں سرفرو نہ لاوے ناداں کوئی وگرنہ
رہنا سجود میں ہے جیسے نماز واجب

ناسازی طبیعت ایسی پھر اس کے اوپر
ہے ہر کسو سے مجھ کو ناچار ساز واجب

لڑکا نہیں رہا تو جو کم تمیز ہووے
عشق و ہوس میں اب ہے کچھ امتیاز واجب

صرفہ نہیں ہے مطلق جان عزیز کا بھی
اے میر تجھ سے ظالم ہے احتراز واجب

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان