عرض داشت

مالک اگرچہ تُو ہے

رازق بھی تُو مِرا ہے

لیکن تِرا یہ بندہ

اکثر یہ سوچتا ہے

یہ کیا کہ رزق میرا

فرعون سے جڑا ہے

یا مقبرے بنا کے

یا مقبرے دکھا کے

( مصرکی وادی الملوک میں (انقلاب سے تین ہفتے قبل )

 

باصر کاظمی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں