عروج و زوال

تیرے ہجر میں جاناں
جن دکھوں کو سہتی ہوں
وہ بیاں سے باہر ہیں
کرب ناک لمحوں کو
جب زبان دیتی ہوں
ان کو پڑھ کے لفظوں میں
لوگ مجھ سے کہتے ہیں
کیا کمال لکھتی ہو
ان کو کیا خبر جاناں
اس کمال کے پیچھے
درد کتنا گہرا ہے
ان کو کیسے سمجھاٶں
یہ کمال کیسا ہے؟
اوج پر پہنچ کر بھی
یہ زوال کیسا ہے؟

عاصمہ فراز

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی