اپنے زخموں میں چھپے جاتے ہیں

اپنے زخموں میں چھپے جاتے ہیں
کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں

رنگ تصویر میں بھرنے والے
پس تصویر ہوئے جاتے ہیں

تیرے ارماں میں کہ اندوہ جہاں
دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں

دھیان غربت کی طرف جاتا ہے
یاد ارباب وطن آتے ہیں

یہ غم دل، یہ شب تنہائی
سوچتے سوچتے سو جاتے ہیں

جب قدم رکھتے ہیں گھر میں باقیؔ
سینکڑوں حادثے یاد آتے ہیں

باقی صدیقی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا