اپنی جانب بُلا رہی ہے مجھے

اپنی جانب بُلا رہی ہے مجھے
مسکرا کر دِکھا رہی ہے مجھے

ایک تو آج اچھا موسم ہے
اور وہ ملنے آ رہی ہے مجھے

جابجا کر رہا ہے یاد کوئی
چھینک پر چھینک آ رہی ہے مجھے

خود خدا کو زمیں پہ آنا پڑا
ایسی مشکل روا رہی ہے مجھے

میں کتابوں میں رہ گیا ہوں کہیں
اور دیمک کہ کھا رہی ہے مجھے

عمر اشتر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی