اپنے سوا نہیں ہے کسی ماسوا کا رنگ

اپنے سوا نہیں ہے کسی ماسوا کا رنگ
دیکھا ہے ہم نے آگ جلا کر ہوا کا رنگ

ہر گوشۂ بساطِ چمن ہے لہو لہو!
دھومیں مچا رہا ہے کسی کی انا کا رنگ

آئی جب اپنے شہر کی تصویر سامنے
آنکھوں کے آگے پھیل گیا کربلا کا رنگ

جمتی نہیں نگاہ کسی تیز چشم کی
پہنا ہے قاتلوں نے بھی کیسا بلا کا رنگ

یک رنگیِ حیات سے گھبرا نہ جائیں کیوں
جو آج غیر کا ہے وہی آشنا کا رنگ

پرواز کی ہے فکر کہ غم بال و پر کا ہے
عاصم اُڑا اُڑا سا ہے خلقِ خدا کا رنگ

لیاقت علی عاصم

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان