اپنا رستہ بدل رہا ہوں میں

اپنا رستہ بدل رہا ہوں میں
خود سے پہلے نکل رہا ہوں میں

میرا ماضی بھی مجھ میں شامل ہو
دیکھ کر اس کو چل رہا ہوں میں

کیسے گارے سے گوندھا میرا خمیر
بے یقینی میں ڈھل رہا ہوں میں

ریت بستر پہ مل رہی ہے مجھے
اس کا مطلب کہ تھل رہا ہوں میں

مجھ کو ایسا بھی کیا ہوا ہے جو
اپنا سینہ مسل رہا ہوں میں

طارق جاوید

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی