آپکی یاد آتی رہی

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئی
شمع غم جھلملاتی رہی رات بھر

کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر

پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے
کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر

جو نہ آیا اسے کوئی زنجیر در
ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر

ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر

 

فیض احمد فیض

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے