آنکھ میں نمی کیوں ہے

آنکھ میں نمی کیوں ہے
اتنی بے کلی کیوں ہے
چاہتوں کی ہر گاگر
درد سے بھری کیوں ہے
تیری سوچ پر ناہید
گرد سی جمی کیوں ہے
تیرے وصل کی ہر چھاؤں
ہجر سے سجی کیوں ہے
بے کلی جو دیتی ہے
ایسی آگہی کیوں ہے
نبض وقت کی ناہید
آج یوں تھمی کیوں ہے

ناہید ورک

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا