اندازِ محبت

تم کو میرا یہ چلبلا انداز پسند ہے
ہر شوخی میں چھپی وہی راز پسند ہے
تم کہتے ہو کہ میں "مرچ” سی ہوں تیز
یہ تپش، یہ گرمی، تم کو بے حد عزیز
میری بے باکی پر تمہاری نظر ہے ٹکی
کچھ خامیاں ہیں، پر یہی دل کی لکیر ہے کھچی
اسی انداز سے دل تمہارا میں نے جیتا ہے
تمہیں میری یہ شوخی کا جلوہ بہت بھاتا ہے
یوں لگتا ہے جیسے ہم بنے ہوں ایک دوسرے کے لیے
باقی سب باتیں ہیں، ہم ہیں بس ایک دوسرے کے لیے

شاکرہ نندنی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا