انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

محبتوں میں خود اپنا حصار ٹوٹتا ہے

کوئی تو ہے جو در خیمۂ محبت پر

جبیں جھکائے بصد افتخار ٹوٹتا ہے

عجیب نشۂ احساس کی گرفت میں ہوں

ترے قریب جو آؤں خمار ٹوٹتا ہے

میں اس لہو میں سے ہوں جس کا ایک اک قطرہ

فصیل ظلم پہ دیوانہ وار ٹوٹتا ہے

قمر رضا شہزاد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا