عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو

عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو

ذرے ذرے کو شریک کارواں کرتے چلو

کتنے روشن ہیں وہ عارض کتنے شیریں ہیں وہ لب

راستہ کٹ جائے گا ذکر بتاں کرتے چلو

شام غم کی ظلمتیں ہیں اور صحرائے حیات

دیدۂ بیدار کو انجم فشاں کرتے چلو

راستے میں بجھ نہ جائیں آرزؤں کے چراغ

ذکر منزل کارواں در کارواں کرتے چلو

جانے کس عالم میں آئیں آنے والے قافلے

سایۂ دیوار جاناں جاوداں کرتے چلو

مظہر تہذیب ہے اک ایک تار پیرہن

بس یونہی اندازۂ سود و زیاں کرتے چلو

قابل اجمیری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی