عکس نے میرے رلایا ہے مجھے

عکس نے میرے رلایا ہے مجھے

کوئی اپنا نظر آیا ہے مجھے

پیش آئینہ بہت سوچتا ہوں

کس لیے اس نے بنایا ہے مجھے

کس لیے وسعت صحرا دے کر

تنگ گلیوں میں پھرایا ہے مجھے

کس لیے میرے ہی صحن جاں میں

مثل دیوار اٹھایا ہے مجھے

میں کہیں اور کا رہنے والا

غم کہاں کھینچ کے لایا ہے مجھے

جس میں اس چھاؤں کی یاد آ جائے

اب تو وہ دھوپ بھی سایا ہے مجھے

نگۂ ناز سے کیوں کر پوچھوں

کیوں نگاہوں سے گرایا ہے مجھے

ہاتھ میں لے کے گریباں میرا

دل نے دل بھر کے ستایا ہے مجھے

سخت حیراں ہوں سر کوہ ندا

کون تھا کس نے بلایا ہے مجھے

خورشید رضوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا