عکس ھو سکتا ھوں

عکس ھو سکتا ھوں تصویر بھی ھو سکتا ھوں
آئنہ خانے کی تشہیر بھی ھو سکتا ھوں

میں منافق سے کبھی ہاتھ مِلاتا ھی نہیں
آپ دشمن ہیں بغل گیر بھی ھو سکتا ھوں

خستگی آنکھ کے کوزے میں اُتر آئی، پر
تیرے چھونے سے میں تعمیر بھی ھو سکتا ھوں

جس کے ماتھے پہ مسافت کا ھے نوحہ لکھا
اُس کے پاؤں کی میں زنجیر بھی ھو سکتا ھوں

آج دامن میں ھے خوشیوں کا بسیرا لیکن
کل برے وقت کی تحریر بھی ھو سکتا ھوں

رانا عثمان احامر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا