اکیلے آۓ ! اکیلے ہی

اکیلے آۓ ! اکیلے ہی سب کو جانا ہے
خلوص والو ! یہی آخری زمانہ ہے

ابھی تو قسمیں اُتھاتے ہو ساتھ دینے کی
ابھی تو تم نے مجھے چھوڑ کر بھی جانا ہے

تمہارا میرا بہت فرق ہے غمِ دل کا
کہ تم نے آنسو ، مگر میں نے دل بہانا ہے

جو میرے ساتھ ہوا ، کیوں ہوا ؟ خدایا بتا !
یہ اک سوال کبھی حشر میں اُٹھانا ہے

یہ دل چرانا پرانی سی بات ہے کوئی
کہ میں نے دل کو نہیں ، جان کو چرانا ہے

یہ بات مجھ پہ یہاں آن کر کھُلی سدرہ
تمہارا دل بھی کسی اور کا ٹھکانہ ہے

سدرہ کریم

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی