عجب رنجشوں کی عجب ابتدا ہے

عجب رنجشوں کی عجب ابتدا ہے
وہ ہر بات پر مجھ سے شکوہ کناں ہے

ذرا سا جھکوں تو منا لوں میں اُس کو
مگر اِس میں حائل مری ہی انا ہے

محبت نے کیسی یہ سازش رچی ہے
بچھڑ کر بھی دل میں وہ باقی رہا ہے

میں پتھر تھا پھر بھی پگھل سا گیا ہوں
وہ شیشہ ہے پھر بھی سلامت کھڑا ہے

میں نازاں ہوں اپنی ہی قسمت پہ سالک
کہ اس سے میں بچھڑا تو اچھا ہوا ہے

محمد عمیر سالک

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف