ایسے اُس ہاتھ سے گرے ہم لوگ

ایسے اُس ہاتھ سے گرے ہم لوگ
ٹوٹتے ٹوٹتے بچے ہم لوگ

اپنا قصہ سنا رہا ہے کوئی
اور دیوار کے بنے ہم لوگ

وصل کے بھید کھولتی مٹی
اور چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ

اس کبوتر نے اپنی مرضی کی
سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ

حافظے کے لئے دوا کھائی
اور بھی بھولنے لگے ہم لوگ

پوچھنے پر کوئی نہیں بولا
کیسے دروازہ کھولتے ہم لوگ

ضیا مذکور

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی