ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا

ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا
وہ ملا تو بجھا بجھا سا تھا

لے گیا مجھ سے چھین کر تعبیر
جو مرے خواب سے شناسا تھا

پھول کِھلنے سے ڈر رہا تھا اور
دشت کے لہجے میں دلاسا تھا

بھیک مجھ کو ملی ہے اشکوں کی
وقت کے ہاتھ میں بھی کاسہ تھا

جانتا ہوں میں درد صحرا کا
جب سمندر تھا شاذؔ پیاسا تھا

شجاع شاذ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی