ایک پرواز دکھائی دی ہے

ایک پرواز دکھائی دی ہے

تیری آواز سنائی دی ہے

صرف اِک صفحہ پلٹ کر اس نے

ساری باتوں کی صفائی دی ہے

پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا

یار نے کیسی رہائی دی ہے

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جُدائی دی ہے

زِندگی پر بھی کوئی زور نہیں

دِل نے ہر چیز پرائی دی ہے

آگ میں رات جلا ہے کیا کیا

کتنی خوش رنگ دکھائی دی ہے

 

گلزار

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا