اک جھلک اُس کفِ حنائی کی

اک جھلک اُس کفِ حنائی کی
نام اۃس کے سبھی خدائی کی

کتنی ہمدردیاں ملیں مجھ کو
خیر ہو تیری بے وفائی کی

پوچھ بیٹھا میں اُس کے گھر کا پتہ
ساری دنیا نے رہنمائی کی

کس قدر لازوال سنگت ہے
حسن کی اور بے وفائی کی

وہ وفادار ہے یہ خود دیکھیں
بات میں نے سُنی سُنائی کی

کیا خبر کب وہ سامنے آ جائے
کیا قسم کھائیں پارسائی کی

ذکر لکھا ہے اک قیامت کا
رات پھر آ گئی جدائی کی

جس سے تھوڑی سی بھی بھلائی کی
اُس نے بدلے میں وہ برائی کی!

عدیم ہاشمی 

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان