ایک آئینہ مثال کی سرگوشی

یہ تُو نے کیا کہا
کہ شرم سے ہوا کا رنگ بھی گلال ہو گیا
مری مثال ہو گیا
ذرا سنو
یہ کس کی خواب ناک دستکوں کا نُور ہے
کہ ہر طرف ہیں آئینے ہی آئینے سجے ہوئے
یہ کون دل کی دھڑکنوں کے پاس آ کے رک گیا
یہ کیا ہوا
میری نظر کا رنگ ہی بدل گیا
یہ تُو نے کیا کہا
کہ میں نے اپنے آپ کو بھلا دیا
مَیں سو رہی تھی اک حسین خواب میں رنگی ہوئی
تری صدا نے گہری نیند سے مجھے جگا دیا
یہ آج تُو نے مجھ کو مجھ سے کس طرح ملا دیا
یہ کیا ہوا
دل و نظر کے سلسلے کہاں پہ لے کے آ گئے
یہ کیا ہوا
فضا میں کیوں میری ہنسی کی چاندنی بکھر گئی
جہاں جہاں قدم رکھوں بہار ہی بہار ہے
بہار کی طرح یہ کون میرے دل پہ چھا گیا
یہ سبز مخملیں فضا میں کھیل دھوپ چھاؤں کا
اور ایسی دھوپ چھاؤں میں
یہ تُو نے کیا کہا
کہ شرم سے ہوا کا رنگ بھی گلال ہو گیا
میری مثال ہو گیا

ایوب خاور 

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان