اگر قیامِ مسلسل میں وہ ستارا ہے

اگر قیامِ مسلسل میں وہ ستارا ہے
تو گردشوں سے بنا کیوں سفرہمارا ہے

ہمیں تو ڈوبنا ہے ناخدا یہیں پہ سہی
بھنور سے دور بہت دور جب کنارا ہے

دھڑک رہا ہے یہ دل رقص پر ہے آمادہ
لہو کے قطروں میں بے چین جیسے پارہ ہے

زمیں پہ چاند اُتارا نہیں کسی نے شاذؔ
جو تم کرو تو یہ اعزاز بس تمہارا ہے

شجاع شاذ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی