اے مری قوم کو اک خواب دکھانے والے

بسلسلہ یوم اقبال ایک تطمین بر شعر خورشید

اے مری قوم کو اک خواب دکھانے والے
اے مرے دیس کو امکان بنانے والے

تیرے افکار سے عاری ہے یہاں کا منظر
دست خوددار سے عاری ہے یہاں کا پیکر

ہےجدا دین سیاست سے یہاں کی یکسر
رہبرِ دیں ہے یہاں کذب وریا کا خو گر

سرحدیں اس کی ہیں پامال نگر ہیں تاریک
منزلیں دور ہوئیں اور سفر ہیں تاریک

سینکڑوں ذہن مگر سوچ ٹھکانے پہ نہیں
سینکڑوں تیر مگر ایک نشانے پہ نہیں

میں کہ بد بخت ترے دور میں پیدا نہ ہوا
تو وہ خوش بخت کہ تو میرے زمانے میں نہیں

صدیق صائب

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اپریل 26, 2020 - 6:22 صبح
میں کہ بد بخت ترے دور میں پیدا نہ ہوا تو وہ خوش بخت کہ تو میرے زمانے میں نہیں کیا کہنے واااااہ بہترین کلام
Add Comment