سکھا نہ تّو سبقِ شرک مجھے اے بھگوائی جان لے
ہے بدر سے نسبت میری، بن جاؤ نہ فدائی جان لے
صدیوں رہا یوں ہی پّر امن سنگ میرے آشیانہ تیرا
گزر نہ پائی صدی، ظاہر ہوئی تیری بے وفائی جان لے
روک دیا ہے نماز سے ، آذاں سے، کبھی تبلیغ سے تونے
اب جاری ہے جنگ ، تب تک نہ ہو تیری پسپائی جان لے
کس ظرف سے سکھاؤ گے، مجھے تقدیسِ عورت تم
ہے بےشرم تو، مجھ سے پانڈاؤں کی پارسائی جان لے
زندہ مدفن بنات کو بچایا ہے ، پنجہِ مشرک سے ہم نے
سکھا نہ تو مسئلہِ طلاق ،ہم سے درس رہنمائی جان لے
ممکن نہیں راحت اّنہیں شھادتِ بابری کے بعد حجازی
پلٹ جائیں گی بازی جلد، تّو مشرک ہرجائی جان لے