آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے

آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے
یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے
جس دن گھر سے بھاگ کے شہر میں پہنچی تھی
بھاگ بھری کے بھاگ اُسی دن پھوٹے تھے
مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئے
ہمسایوں نے ہمسائے ہی لوٹے تھے
شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے
اوڑھ کے پھرتی تھی جو نیناں ساری رات
اُس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے

فرزانہ نیناں

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان