عداوتوں میں جو خلقِ خدا

عداوتوں میں جو خلقِ خدا لگی ہوئ ہے

محبتوں کو کوئ بد دعا لگی ہوئ ہے

پناہ دیتی ہے ہم کو نشے کی بے خبری

ہمارے پیچ ہے خبر کی بلا لگی ہوئ ہے

کمال ہے نظرانداز کرنا دریا کو

اگرچہ پیاس بھی بے انتہا لگی ہوئ ہے

پلک جھپکتے ہی خواہش نے کینوس بدلا

تلاش کرنے میں چہرہ نیا لگی ہوئ ہے

تو آفتاب ہے جنگل کو دھوپ سے بھر دے

تری نظر مرے خیمے پہ کیا لگی ہوئ ہے

علاج کے لیۓ کس کو بلائیے صاحب

ہمارے ساتھ ہماری انا لگی ہوئ ہے

فیصل عجمی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی