آدم ذات کو آدم ذات کی خبر نہیں

آدم ذات کو آدم ذات کی خبر نہیں
دنیا کہاں جا رہی ہے، کسی بات کی خبر نہیں

ہمیشہ محتاط رہنا، اگر کبھی تم شہر میں چلنا
شاید تمہیں لگے گھات کی خبر نہیں

ہمارے یہاں دن کو تو اندھیرا ہوتا ہے
اب مجھے صحیح سے رات کی خبر نہیں

جوں ہی حد سے بڑھ جاؤں رافی،
یاد کرانے والے کراتے ہیں کہ تجھے اوقات کی خبر نہیں

حسنین رافی

Related posts

مردانگی

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

پروفیسر محمد فرید