ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا

ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
مجھ سے ملنا وہ ترا مل کے جدا ہو جانا

اک ندامت ہے ہنر ٹوٹ کے جڑ جانے کا
دل کو آیا نہ محبت میں فنا ہو جانا

شب کی مستی کو چھپائے گا سحر سے کیسے
اس کی انگڑائی کا خود موجِ صبا ہو جانا

تازگی عشق میں حیرت کی طلب کرتی ہے
حسن وہ ہے جسے آتا ہو نیا ہو جانا

وہ سبق دے ہمیں تسلیم و عبادت کا سعید
جس نے دیکھا ہو کسی بُت کا خدا ہو جانا

سعید خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے