ابر بھی جھیل پر برستا ہے

ابر بھی جھیل پر برستا ہے
کھیت اک بوند کو ترستا ہے
درد سہہ کر بھی ملتی ہے تسکین
وہ شکنجہ کچھ ایسے کستا ہے
اس کی مرضی پہ ہے عروج و زوال
بخت ساز آسماں پہ بستا ہے
احتیاطاً ذرا سا دور رہیں
اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے
ہم بھی جوہر شناس ہیں جاناں
دل کا سودا بھی کوئی سستا ہے
ریت بن کر بکھر گئے نیناں
میری آہوں سے تھل جھلستا ہے

فرزانہ نیناں

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا