اب سمجھ تو آئی

اب سمجھ تو آئی پر سمجھا میں یہ تاخیر سے
کچھ نہیں ہوتا کبھی بھی خواب کی تعبیر سے

کچھ تو یہ خامشیِ رنگ میں کہتی ہوگی نا
کوششِ گویائی ظاہر ہے لبِ تصویر سے

تو نہیں لیکن نمائندہ ہے تیرا میرے پاس
یعنی اکثر بات ہوتی ہے تری تصویر سے

وہ پرانے قصے، وہ باتیں ، وہ نظروں کے پیام
تازہ ہوجاتے ہیں اب بھی یہ تری تحریر سے

محمد حذیفہ جلال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی