اَب کہاں غم شناس ہے میرا

اَب کہاں غم شناس ہے میرا
بے سبب دِل اُداس ہے میرا

واہمے آج بھی جگاتے ہیں
بخت بھی وقفِ یاس ہے میرا

چشمِ تر میں نقوش لرزاں ہیں
غم یہاں بے لباس ہے میرا

جگنوؤں کو اُجال رکھا ہے
اس کا ملنا قیاس ہے میرا

ہیں بدن پر حقوق مقتل کے
دل مگر اُس کے پاس ہے میرا

ناصر ملک

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا