آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا

آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا
ہمارا وہ دل سے دل لگانا تو یاد ہوگا

کسی کی آنکھ میں سجے تھے خواب کتنے
وہ خوابوں کا محل بنانا تو یاد ہوگا

وہ جو کہتے تھے "تم بن سانس رکتی ہے”
ان کا آج یوں مسکرانا تو یاد ہوگا

بکھر گئے تھے ورق ورق زندگی کے سب
وہ بستی کا پھر سے بسانا تو یاد ہوگا

ترس گئے تھے جو اک ذرا سی آہٹ کو
وہ دستک پہ خود کو چھپانا تو یاد ہوگا

زمانے کی ٹھوکروں نے بہت کچھ سکھایا
وہ خود سے ہی خود کو مٹانا تو یاد ہوگا

ہوئے ہم بھی مصور رائیگاں محبت میں
وہ ہجر کا بوجھ اٹھانا تو یاد ہوگا

پیر انتظار حسین مصور

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا