آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا
یہ خو بری ہے ان کا افشائے راز کرنا

جاتے تو ہو پیارے اکتا کے مجھ کنے سے
پر واسطے خدا کے پھر سرفراز کرنا

دو چار دن میں ظالم ہووے گی خط کی شدت
یہ حسن عارضی ہے اس پر نہ ناز کرنا

پھرتے ہو تم ہر اک جا ہم بھی تو آشنا ہیں
یاں بھی کرم کبھی اے بندہ نواز کرنا

دل تو بہت لیے ہیں تم نے ہر ایک جا سے
اس میرے دل کا صاحب کچھ امتیاز کرنا

آصف الدولہ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی