آنکھ سے خواب بھی ناکام نکل آتا ہے
فیصلہ دل کا اگر خام نکل آتا ہے
تیرے آنے کی خبر ایسے سنی ہے جیسے
ایک کنگال کا انعام نکل آتا ہے
مجھ کو راتوں کے کئی بھید بتا دیتا ہے
جب کبھی چاند لب بام نکل آتا ہے
ایک بس میری عداوت کے لیے حیرت ہے
شہر کا شہر سر عام نکل آتا ہے
ہونے لگتی ہوں میں اوقات سے باہر اس روز
خود سے جس روز کوئی کام نکل آتا ہے
کومل جوئیہ