عالؔی جس کا فن سخن میں

عالؔی جس کا فن سخن میں اک انداز نرالا تھا
نقد سخن میں ذکر یہ آیا دوہے پڑھنے والا تھا

جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو
برسوں بعد غزل کی رو میں اک مضمون نکالا تھا

کیا وہ گھٹا ترے گھر سے اٹھی کیا وہ تو نے بھیجی تھی
بوندیں روشن روشن تھیں اور بادل کالا کالا تھا

اجنبیوں سے دھوکے کھانا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے
اس کے لیے کیا کہتے ہو وہ شخص تو دیکھا بھالا تھا

ہم نہ ملے اور جب بھی ملے تو دونوں نے اقرار کیا
ہاں وہ وعدہ ایسا تھا جو پورا ہونے والا تھا

تپتی دھوپوں میں بھی آ کر اپنی یاد دلاتے ہیں
چاند نگر کے انشاؔ صاحب آلے جن کا ہالا تھا

جمیل الدین عالی​

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا